درجہ بندی/رینکنگ

گزشتہ 15 سالوں کے دوران سی آئی آئی ٹی نے اس حد تک ترقی کی ہے کہ شاید یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ سی آئی آئی ٹی اس دہائی کے سب سے تیزی سے ترقی کرنے والے تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے۔ ان تمام سالوں میں مختلف بیرونی اداروں نے سی آئی آئی ٹی، اس کے پروگراموں کے معیار کا بہت سخت اور پیشہ ورانہ معیارات پر مبنی جائزہ لیا۔ سی آئی آئی ٹی اور اس کے پروگراموں کا جائزہ لینے والوں میں سب سے اہم اور خود مختار ادارے اور ریگولیٹری اداروں میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن(HEC)، پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC)، نیشنل کمپیوٹنگ ایجوکیشن ایکریڈیشن کونسل (NCEAC) اور انسٹی ٹیوٹ آف سائنٹفک انفارمیشن(ISI) ویب آف نالج شامل ہیں۔

سی آئی آئی ٹی کے لیے یہ بات باعث فخر ہے کہ اس کی انجینئرنگ ڈگریوں کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تحقیقی سرگرمیوں کو ریکارڈ کامیابیاں ملی ہیں۔ سی آئی آئی ٹی کی کامیابیوں کی سال بہ سال مختلف درجہ بندی/رینکنگ درج ذیل رہی ہے۔

2015

مئی 2015ئ میں ایچ ایس سی نے یونیورسٹیوں کی درجہ بندی برائے 2014 کا اعلان کیا۔ سی آئی آئی ٹی جنرل کیٹیگری میں دوسرے نمبر پر رہی جبکہ ایچ ایس سی کے مطابق پاکستان کی مجموعی یونیورسٹیوں میں اس کانمبر 4رہا۔

2014

مئی 2014ءمیں QSایشیائی یونیورسٹی درجہ بندی کے مطابق سی آئی آئی ٹی نے ایشیاءکی ٹاپ یونیورسٹیوں میں201-250پوزیشن حاصل کی۔ایشیائی یونیورسٹی کی اس درجہ بندی میں پاکستان کی سی آئی آئی ٹی سمیت10ادارے ایسے ہیں جن کا شمار ایشیاءکے 300اداروں میں ہوتاہے۔ تفصیلات جاننے کے لیے یہ ویب سائٹ دیکھیں: http://comsats.edu.pk/AboutCIIT/ciit_attains_position.aspx

2013

2013ءمیں ہائر ایجوکیشن کمیشن(HEC)نے پاکستان کے اعلی تعلیمی اداروں کی درجہ بندی کی بنیاد پر معیار اور تحقیق کا اعلان کیا تو سی آئی آئی ٹی پاکستان کی 132یونیورسٹیوں میں سے جنرل یونیورسٹیوں کی کیٹیگری میں چوتھے نمبر پر رہا۔

علاوہ ازیں سی آئی آئی ٹی نے کیو ایس کے مطابق کل پانچ میں سے مجموعی طورپر تین اسٹارز حاصل کیے۔ تفصیلات کے لیے یہ ویب سائٹ ملاحظہ کریں:-
qs_stars.aspx

2012

سال 2012ءمیں ایچ ایس ای نے پاکستان کے اعلی تعلیمی اداروں کی درجہ بندی پر مبنی معیار و تحقیق کا 23فروری2012 کو اعلان کیا۔کامسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی(سی آئی آئی ٹی)نے کمپیوٹر سائنس اور آئی ٹی کیٹیگری میں پہلی پوزیشن حا صل کی۔ مزید برآں سی آئی آئی ٹی پاکستان کی 132یونیورسٹیوں میں سے ٹاپ ٹین اعلی تعلیمی اداروں میں نویں نمبر پر رکھا گیا۔

ایچ ایس ای-پاکستان اسلامی دنیا کا وہ پہلا ملک ہے جس نے درجہ بندی کے معیار اور طریقہ ہائے کار وضع کیا اور کیو ایس کی عالمی سطح کی درجہ بندی کی بنیاد پر درجہ بندی کی مشق کا انعقاد کیا۔ کیو ایس درجہ بندی کے یہ اقدام ایچ ایس ای نے اس مقصد کے تحت اٹھایا کہ عالمی یونیورسٹی درجہ بندی میں شریک ہونے کے کلچر کو فروغ دیا جا سکے اور ملک میں HEIsکی ترقی کی مناسب جھلک بھی دکھائی جا سکے۔

تفصیلات کے لیے یہ لنک دیکھیں:

http://beta.hec.gov.pk/InsideHEC/Divisions/QALI/Others/RankingofUniversities/Pages/Introduction.aspx

علاوہ ازیںسی آئی آئی ٹی کو ایچ ایس ای کے اعلان کے مطابق تھامسن رائٹرز ویب سائٹس کے SCI-E,SSCI,ASHEIڈیٹا بیس میں شائع کردہ تحتقیقی مطبوعات کی بنیاد پر پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں تیسری پوزیشن حاصل ہے۔

2011

ایچ ایس سی کو 9۔ دسمبر 2011کو تھامسن۔ رائٹرز، ادارہ برائے سائنسی معلومات (ISI)، ویب آف نالج امریکہ کے جرائد میں شائع شدہ تحقیقی مقالات کی روشنی میں درجہ بندی پر نظرثانی کی۔ نظرثانی شدہ درجہ بندی کے مطابقسی آئی آئی ٹی نے اپنی مجموعی چھٹی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔ آئی ٹی اور انجینئرنگ کی ذیلی کیٹیگری میں سی آئی آئی ٹیدوسری نمبر پر رہی جبکہ سوشل سائنسز، مینجمنٹ اینڈ شماریات کیٹیگری میں سی آئی آئی ٹی نے تیسری درجہ بندی حاصل کی۔ نیچرل سائنسز اور زراعت، لائف سائنسز اور میڈیسن کی دیگر دو کیٹیگری میں سی آئی آئی ٹی بالترتیب چھٹے اور بارہ نمبرپر رہی۔

مزید برآں سی آئی آئی ٹی کو ایچ ایس ای کے اعلان کے مطابق تھامسن۔ رائٹرز ویب سائنس کے SCI, SSCI, ASHCIڈیٹابیس میں شائع کردہ تحقیقی مقالات کی بنیا دپر پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔

2010

تھامسن۔رائٹرز، ادارہ برائے سائنسی معلومات (ISI) ویب آف نالج امریکہ کے جرائد میں شائع شدہ تحقیقی مطبوعات کی بنیاد پر سی آئی آئی ٹی نے اپنی ساتویں نمبر کی پوزیشن (2006-2009کے دوران) کو تحقیقی کام کی بنیادپر بہتر بنایا اور 2010میں چھٹے نمبر پر آگئی۔

2010میں کیو ایس نے 83اسکور کے ساتھ طلبہ۔ اساتذہ کی کیٹیگری میں ایشیاءکی ٹاپ 100یونیورسٹیوں میں 54نمبرپر جگہ دی۔

2009

سی آئی آئی ٹی نے پاکستان کی ٹاپ یونیورسٹیوں میں اپنے درجہ بندی کی آٹھویں پوزیشن کو برقرار رکھا جبکہ برصغیر کی ٹاپ 100یونیورسٹیوں میں 55سے 52نمبر پر رہی۔ سال 2009کے دوران عالمی یونیورسٹیوں کے ویب میٹرکس درجہ بندی جیسے عالمی یونیورسٹیوں کی رینکنگ ویب بھی کہا جاتا ہے، اس کے نتائج کی روشنی میں ہ درجہ بندی کی گئی تھی۔

سی آئی آئی ٹی نے ایچ ایس ای کے اعلان کے تحت تھامسن۔ رائٹرز ISIویب آف نالج کے جرائد میں شائع شدہ تحقیقی مقالات کی بنیاد پر 2006-2009 سال کی درجہ بندی کے دوران اپنی ساتویں پوزیشن برقرار رکھی۔

2008

H۔ اشاریہ میں مقداری (مقالات کی تعداد) اور معیاری (مقالات کے اثرات) دونوں کے جائزے کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے مقالات کی مسلسل اشاعت نے پائیدار اثرات مرتب کیے بجائے اس کے کہ صرف ایک اعلیٰ حوالہ جاتی مقالہ شائع کیا جائے۔ 68پاکستانی اداروں کا جائزہ لینے کے دوران سی آئی آئی ٹی کو تیسری پوزیشن حاصل رہی۔ اور 2008میں 13کا شاندار H۔ اشاریہ اسکور حاصل کیا جس کا ممکنہ اعلیٰ ترین اسکور 15تھا۔

تحقیقی مقالات کے حوالے سے 2008میں ایچ ایس ای کے اعلان کے مطابق سی آئی آئی ٹی کو دوسری پوزیشن حاصل تھی۔ اس مقصد کے لیے وفاقی دارالحکومت میں واقع 9یونیورسٹیوں کا جائزہ لیا گیا جس میں پاکستان بھر میں سی آئی آئی ٹیمجموعی طو رپر پانچویں نمبر پر رہی۔

عالمی یونیورسٹیوں کے ویب میٹرکس درجہ بندی جسے عالمی یونیورسٹیوں کی رینکنگ ویب بھی کہا جاتا ہے، یہ ایک ایسا درجہ بندی کا نظام ہے جس میں عالمی یونیورسٹیوں کی مجموعی اشارت کی روشنی میں درجہ بندی کی جاتی ہے اور ویب مندرجات (ویب صفحات اور فائلوں کی تعداد) اور ان ویب مطبوعات کے اثرات پر غور کیا جاتا ہے۔ اس درجہ بندی کو سائبر میٹرکس کیپ شائع کرتی ہے جو ہسپانوی قومی تحقیقی کونسل (CSIC) تحقیقی گروپ ہے جس کا دفتر میڈرڈ میں واقع ہے۔ ملک کے حوالے سے یونیورسٹیوں کی رینکنگ ویب کے مطابق سی آئی آئی ٹی کا پاکستان میں آٹھواں نمبر ہے جبکہ بر صغیر کی ٹاپ 100یونیورسٹیوں میں یہ 55نمبر پر ہے۔

2007

تھامسن۔ رائٹرز، ISIویب آف نالج کے جرائد میں شائع شدہ تحقیقی مقالات کی بنیاد پر ایچ ایس ای کے مطابق سی آئی آئی ٹیساتویں نمبر پر آتی ہے۔

2006

ایچ ای سی نے 2006میں پاکستان میں واقع اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی درجہ بندی کے لیے ایک مشق انجام دی۔ ایچ ایس ای کی انجینئرنگ یونیورسٹیوں کی درجہ بندی سی آئی آئی ٹی کا اعلیٰ تعلیم کے انجینئرنگ اداروں میں آٹھواں نمبر تھا۔

اسی سال (2006) میں ایچ ای سی نے جائزہ کے دائرہ کار کو وسعت دی اور تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں کی تحقیقی مقالات کی بنیاد پر درجہ بندی کی جیسا کہ ادارہ برائے سائنسی معلومات (ISI) ویب آف نالج امریکہ کے ڈیٹا بیس (تھامسن سائنٹفک، 2006) کے اشارہ میں بتایا گیا ہے۔ سی آئی آئی ٹی نے اس کیٹیگری میں بھی شاندار اسکور حاصل کیا اور 63یونیورسٹیوں اور ڈگری دینے والے اداروں میں ساتویں پوزیشن حاصل کی۔

ہماری بارے ميں

CIIT تین براعظموں میں 21 رکن ممالک کے ساتھ ایک بین سرکاری تنظیم ہے جو جنوب ( COMSATS ) ، میں پائیدار ترقی کے لئے سائنس اور ٹیکنالوجی پر کمیشن کے ایک پروجیکٹ کے طور پر ، 1998 ء میں قائم کیا گیا تھا...

مزید پڑھیں

کیمپس

ہم تک پہنچنے

پارک روڈ ، ترلایئ کلاں ، اسلام آباد 45550 ، پاکستان

ہم سے رابطہ کریں

ٹیلی فون: +92-51-9247000-9247002 اور 9049802
یواےاین : + 92-51-111-001-007

ہمیں فالو کریں

     

کیمپس کا نقشہ

© 2008 - 2015 کومستس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی
ITCenter اسلام آباد